کھاہ زبان میں وعظ و تبلیغ کی ضرورت و اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو ہر قوم، ہر خطے اور ہر زبان کے انسانوں کے لیے ہدایت لے کر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو صرف مخصوص زبان یا قوم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے پوری انسانیت کے لیے نازل فرمایا۔ اسی لیے وعظ و تبلیغ میں لوگوں کی اپنی زبان کو اختیار کرنا نہایت ضروری اور مؤثر ہے۔ کھاہ زبان، جو چناب ویلی بالخصوص ضلع رام بن کے کھاہ/کھاشا قبیلے کی مادری زبان ہے، اس میں دینی تعلیم و تبلیغ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
1. زبان اور پیغامِ رسالت
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں واضح اصول بیان فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ
(سورۃ ابراہیم: 4)“اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں ہی بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے (پیغام) اچھی طرح واضح کر دے۔”
یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ دعوت و تبلیغ اپنی قوم کی زبان میں ہونا سنتِ الٰہی ہے۔ اگر رسول اپنی قوم کی زبان میں پیغام پہنچاتے رہے تو آج بھی یہی طریقہ سب سے زیادہ مؤثر ہے۔
2. رسول اللہ ﷺ کا دعوتی اسلوب
نبی کریم ﷺ ہر قبیلے، ہر وفد اور ہر شخص سے اس کی فہم کے مطابق گفتگو فرماتے تھے۔ حدیث شریف ہے:
نَحْنُ مَعَاشِرَ الأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُكَلِّمَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ
(مشکوٰۃ المصابیح)“ہم انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں سے ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق بات کریں۔”
کسی قوم کی عقل اور سمجھ کا سب سے بڑا ذریعہ اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ لہٰذا کھاہ زبان میں وعظ و تبلیغ سنتِ نبوی کے عین مطابق ہے۔
3. مادری زبان میں وعظ کا اثر
احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دل پر اثر ڈالنے والی بات وہی ہوتی ہے جو انسان اپنی زبان میں سنتا ہے:
إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا
(صحیح بخاری)“بعض بیان (اندازِ گفتگو) جادو کی طرح اثر رکھتا ہے۔”
یہ اثر تب ہی پیدا ہوتا ہے جب بیان سامع کی اپنی زبان میں ہو۔ کھاہ زبان میں دیا گیا وعظ عام لوگوں کے دلوں میں زیادہ گہرا اثر ڈال سکتا ہے بنسبت اردو یا عربی کے، کیونکہ ہر شخص دینی اصطلاحات کو فوراً نہیں سمجھ پاتا۔
4. دینی فہم اور عملی زندگی
بہت سے لوگ نماز، روزہ، معاملات، اخلاق اور سماجی برائیوں سے متعلق احکام اس لیے صحیح طور پر نہیں سمجھ پاتے کیونکہ وعظ ایسی زبان میں ہوتا ہے جو ان کے لیے ثانوی زبان ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
(صحیح بخاری)“میری طرف سے (دین کی بات) پہنچاؤ چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔”
اگر یہ ایک آیت کھاہ زبان میں پہنچائی جائے تو اس کا فائدہ کہیں زیادہ ہوگا، کیونکہ پیغام صحیح فہم کے ساتھ منتقل ہوگا۔
5. کھاہ زبان میں تبلیغ نہ ہونے کے نقصانات
- نئی نسل دین سے جذباتی و فکری طور پر دور ہو رہی ہے
- مقامی ثقافت اور دینی اقدار میں خلا پیدا ہو رہا ہے
- غیر مستند باتیں اور غلط تشریحات آسانی سے پھیل جاتی ہیں
- مادری زبان کمزور ہونے کے ساتھ دینی زبان بھی اجنبی بنتی جا رہی ہے
یہ سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کھاہ زبان میں دینی مواد تیار کیا جائے۔
6. کھاہ زبان میں تبلیغ کے فوائد
- عام آدمی دین کو آسانی سے سمجھتا ہے
- وعظ دل تک پہنچتا ہے، صرف کانوں تک محدود نہیں رہتا
- بچوں اور نوجوانوں میں دینی شعور پیدا ہوتا ہے
- زبان، ثقافت اور دین تینوں کا تحفظ ہوتا ہے
- فرقہ واریت اور غلط فہمیوں میں کمی آتی ہے
7. اہلِ علم اور ذمہ داران کا فرض
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)“اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔”
اہلِ علم، ائمہ، خطباء اور دینی کارکنوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کھاہ زبان میں:
- مختصر بیانات
- جمعہ کے وعظ کے حصے
- دینی کہانیاں
- بنیادی عقائد و مسائل
تیار کریں تاکہ دین ہر گھر تک پہنچے۔
نتیجہ
کھاہ زبان میں وعظ و تبلیغ کوئی لسانی تعصب نہیں بلکہ قرآنی، نبوی اور فطری تقاضا ہے۔ دین کو زندہ رکھنے، صحیح سمجھ پیدا کرنے اور نئی نسل کو دین سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ دین ان کی اپنی زبان میں پیش کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبانوں کے ذریعے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین